12 اگست، 2016

ابھی آئی ہے اک اچھی خبر یارو اسیروں میں


غزل
ابھی آئی ہے اک اچھی خبر یارو اسیروں میں
کہ ان کے نام کے بھی تیر ہیں  ترکش کے تیروں میں
یہی سچ بات کہہ دینے کی عادت ہے بری ہم میں
وگرنہ ہم بھی ہوتے ظل سبحانی وزیروں میں
کوئی مسند نشیں تو ہیں نہیں کہ دیں پتہ اپنا
ہمیں جب ڈھونڈنا ہوگا تو آجانا فقیروں میں
سیاست میں رمق  انسانیت کی کیا کہا تونے؟
بہت نایاب شئے تو ڈھونڈھتا ہے بے ضمیروں میں
نذیری بس وہی ناکام لوٹ آئے ہیں رستے سے
بھروسہ کر کے جو بیٹھے تھے ہاتھوں کی لکیروں میں


کوئی تبصرے نہیں: