غزل
آنکھیں کنول تو جسم کو رشکِ گہر لکھوں
میں تجھ کو اپنی نیک دعا کا اثر لکھوں
ہونٹوں پہ تیرا ذکر ہو اور دل میں تیری یاد
نوکِ قلم ہو نام تیرا کچھ اگر لکھوں
تجھ کو لکھوں کہ منزلِ مقصود ہو میری
اور خود کو تیری یاد میں میں درد بدر لکھوں
ہونٹوں سے تیری رنگ شفق مانگتی پھرے
شرمائے چاند تجھ کو میں رشکِ قمر لکھوں
جب دل کو دل سے راہ ہے الفت کی راہ میں
نامہ میں کس کے واسطے اے نامہ بر لکھوں
جب مل گئی ہے مجھ کو نذیریؔ ہر اک خوشی
تقدیر کیوں نہ اپنی بھلا اوج پر لکھوں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں