نعت رسول ﷺ
ایسی ہے جسمِ سیدِ ابرار کی خوشبو
شرمندہ جس کے آگے ہے عطار کی خوشبو
میرے نفس نفس میں خوشبو ہے میرے عمل عمل میں خوشبو ہے
خوشبو ہے میرے امروز میں بھی میرے روشن کل میں خوشبو ہے
حاصل ہے مجھے سنت ان کی
مہکی جن کے کردار کی خوشبو
سدرہ پہ بھی خوشبو ہی خوشبو اقصی میں بھی خوشبو ہی خوشبو
از فرشِ زمیں تا عر شِ بریں رستہ میں بھی خوشبو ہی خوشبو
یہ کون ہوا ہے محو سفر
ہے راہ میں کس رہوار کی خوشبو
وہ چلیں تو رستہ خوشبو دے وہ رکیں تو وہ جا خوشبو دے
جب بات کسی سے کرتے ہوں ہر لفظ نبی کا خوشبو دے
محسوس کیا ہے دنیا نے
لفظوںکی مہک گفتار کی خوشبو
یہ برگ و شجر بے خوشبوو تھے دنیا کے چمن بے خوشبو تھے
آئے نہ تھے جب سرکار میرے تاتار و ہرن بے خوشبو تھے
کلیوں میں چمن کے پھولوں میں
آقا نے میرے بیدار کی خوشبو
آقا نے میرے بیدار کی خوشبو
بو بکرو عمر عثماں حیدر مہکے ان کی خوشبوپاکر
پھر کیوں نہ بنیں مہتابِ زماں پھر کیوں نہ بنیں دیں کے رہبر
لاریب وہی دل مومن ہے
جس دل میں رہے ان چار کی خوشبو
آقا کے پسینے کی خوشبو ایسی کی بسادے محفل کو
اخلاق میں ایسی خوشبو ہے جو جیت لے دشمن کے دل کو
طائف کے مکینوں سے پوچھو
کیسی ہے نبی کے پیار کی خوشبو
یہ عشق و محبت کی منزل قسمت سے ہوئی مجھ کو حاصل
فرمانِ نبی کی خوشبو سے واللہ بہت معمور ہے دل
محسوس نذیریؔ کرتا ہوں
آقاکے حسیں دربار کی خوشبو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں