کبھی مسکراہٹیں بانٹ دے کبھی الجھنوں سے جدا لگے
کرو ایسا کام یہاں کوئی کہ کسی کے دل کی دعا لگے
تو بلا وجہ کا رقیب ہے تو بتا وہ کس کے قریب ہے
وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے نہ ترا لگے نہ میرا لگے
یوں نہ خود پہ اتنی تہیں چڑھا کبھی اپنی ذات کا دے پتہ
کبھی چاہتوں کی ہوا لگے کبھی رنجشوں کا پتہ لگے
جو نصیب کا ہے لکھا ہوا وہ تو خود میرے پاس آئیگا
مجھے کوئی ایسی دعا نہ دے کہ یہ زندگی بھی سزا لگے
بھری خوبیاں ہیں جہان کی کہ سکت نہیں ہے بیان کی
وہ نہ جانے کیسا حبیب ہے جو خفا بھی ہو تو بھلا لگے
یہ کہاں پہ آگئی زندگی جو میرا تھا آج ہے اجنبی
میرے شہر یہ تجھے کیا ہوا تیرا رنگ بدلا ہوا لگے
یہ عجب نذیریؔ مقام ہے کہ یہاں پہ بے حسی عام ہے
کوئی ایسا شعر سنا یہاں جو کسی کے قلب کو جا لگے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں