16 اکتوبر، 2016

کبھی مسکراہٹیں بانٹ دے کبھی الجھنوں سے جدا لگے


کبھی مسکراہٹیں بانٹ دے کبھی الجھنوں سے جدا لگے
کرو ایسا کام یہاں کوئی کہ کسی کے دل کی دعا لگے

تو بلا وجہ کا رقیب ہے تو بتا وہ کس کے قریب ہے 
وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے نہ ترا لگے نہ میرا لگے

یوں نہ خود پہ اتنی تہیں چڑھا کبھی اپنی ذات کا دے پتہ
کبھی چاہتوں کی ہوا لگے کبھی رنجشوں کا پتہ لگے

جو نصیب کا ہے لکھا ہوا وہ تو خود میرے پاس آئیگا
مجھے کوئی ایسی دعا نہ دے کہ یہ زندگی بھی سزا لگے

بھری خوبیاں ہیں جہان کی کہ سکت نہیں ہے بیان کی 
وہ نہ جانے کیسا حبیب ہے جو خفا بھی ہو تو بھلا لگے

یہ کہاں پہ آگئی زندگی جو میرا تھا آج ہے اجنبی
میرے شہر یہ تجھے کیا ہوا تیرا رنگ بدلا ہوا لگے

یہ عجب نذیریؔ مقام ہے کہ یہاں پہ بے حسی عام ہے 
کوئی ایسا شعر سنا یہاں جو کسی کے قلب کو جا لگے

کوئی تبصرے نہیں: