23 اکتوبر، 2016

جئے تو ہم بھی مگر لطف زندگی نہ ملا


جئے تو ہم بھی مگر لطف زندگی نہ ملا
کہ جس کی دل نے طلب کی ہمیں وہی نہ ملا

تمہارے بعد ہزاروں جتن کئے ہم نے 
سکون قلب کا موسم مگر کبھی نہ ملا

سمجنے والوں کی اک بھیڑ تیرے شہر میں ہے
جو دل کی بات سمجھ لے وہ آدمی نہ ملا

کوئی بھی عذر نہیں تھا مگر ملا بھی نہیں
اسے نہ تھی کوئی الفت تو آپ ہی نہ ملا

اگر بجھا نہیں سکتا تو کوئی بات نہیں
لگی ہے آگ میرے گھر میں یار گھی نہ ملا

اداس شام نمی آنکھ میں دھواں چہرہ
غموں کا ساز ہی بجنے دے تو ہنسی نہ ملا

تمام شہر کو مقتل بنادیا لیکن 
سبھی تھے حق پہ کوئی ہم کو دوزخی نہ ملا 

خود اپنی ذات سے پہچان ہوگئی جب سے
پھر اس کے بعد کوئی ہم کو اجنبی نہ ملا

جو اپنے کاندھوں پہ اوروں کا غم اٹھا کے چلے
بھرے جہاں میں نذیری وہ اک سخی نہ ملا 

کوئی تبصرے نہیں: