جئے تو ہم بھی مگر لطف زندگی نہ ملا
کہ جس کی دل نے طلب کی ہمیں وہی نہ ملا
تمہارے بعد ہزاروں جتن کئے ہم نے
سکون قلب کا موسم مگر کبھی نہ ملا
سمجنے والوں کی اک بھیڑ تیرے شہر میں ہے
جو دل کی بات سمجھ لے وہ آدمی نہ ملا
کوئی بھی عذر نہیں تھا مگر ملا بھی نہیں
اسے نہ تھی کوئی الفت تو آپ ہی نہ ملا
اگر بجھا نہیں سکتا تو کوئی بات نہیں
لگی ہے آگ میرے گھر میں یار گھی نہ ملا
اداس شام نمی آنکھ میں دھواں چہرہ
غموں کا ساز ہی بجنے دے تو ہنسی نہ ملا
تمام شہر کو مقتل بنادیا لیکن
سبھی تھے حق پہ کوئی ہم کو دوزخی نہ ملا
خود اپنی ذات سے پہچان ہوگئی جب سے
پھر اس کے بعد کوئی ہم کو اجنبی نہ ملا
جو اپنے کاندھوں پہ اوروں کا غم اٹھا کے چلے
بھرے جہاں میں نذیری وہ اک سخی نہ ملا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں