غزل
دشتِ تنہائی میں مانوس صدا کس کی تھی
اے میرے یار بتا تیرے سوا کس کی تھی
میرے گذرے ہوئے کل اتنا بتادے مجھ کو
زخم تو تم نے لگائے تھے دوا کس کی تھی
عمر بھر مجھ کو جلاتی رہی حالات کی دھوپ
جو مجھے راس نہ آئی وہ دعا کس کی تھی
آپ کی راہ پہ چل کر ہوئے رسوا سرِحشر
بولئے شیخِ حرم اس میں خطا کس کی تھی
ہم نے کی ان سے محبت ہمیں مجرم ٹھہرے
قیدِ تنہائی ملی کس کو سزا کس کی تھی
جو بھی ہوتا ہے وہ اچھے کے لئے ہوتا ہے
اے نذیریؔ یہ حسیں بات بتا کس کی تھی
مسیح الدین نذیری
9321372295
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں