رخ ہواکا ہو جدھر جا ئے ضروری تو نہیں
دل یہ طوفان سے ڈر جائے ضروری تو نہیں
جس کو چاہے اسے اللہ عطا کرتا ہے
سب کی تقدیر سنور جائے ضروری تو نہیں
شیخ جی آپ حقیقت سے مکر جاتے ہیں
ساری دنیا ہی مکر جائے ضروری تو نہیں
ہر کوئی عشق میں فرہاد نہیں ہوسکتا
ہر کوئی حد سے گذر جائے ضروری تو نہیں
اک نظر دل میں اترنے کے لئے کافی ہے
اس میں اک عمر گزر جائے ضروری تو نہیں
ایک منظر پہ ٹھہر سکتی ہے دھڑکن دل کی
سارے منظر پہ نظر جائے ضروری تو نہیں
حاکمِ شہر تو انصاف کرے گا لیکن
خون قاتل کے ہی سر جائے ضروری تو نہیں
صبح کو آنا ہے تو وہ وقت پہ آجائیگی
ہر جگہ مرغِ سحر جائے ضروری تو نہیں
بات تو آپ کی برحق ہے نذیریؔ لیکن
ان کے بھی دل میں اتر جائے ضروری تو نہیں
مسیح الدین نذیری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں