5 اکتوبر، 2016

رخ ہواکا ہو جدھر جا ئے ضروری تو نہیں


رخ ہواکا ہو جدھر جا ئے ضروری تو نہیں
دل یہ طوفان سے ڈر جائے ضروری تو نہیں

جس کو چاہے اسے اللہ عطا کرتا ہے
سب کی تقدیر سنور جائے ضروری تو نہیں

شیخ جی آپ حقیقت سے مکر جاتے ہیں
ساری دنیا ہی مکر جائے ضروری تو نہیں

ہر کوئی عشق میں فرہاد نہیں ہوسکتا
ہر کوئی حد سے گذر جائے ضروری تو نہیں

اک نظر دل میں اترنے کے لئے کافی ہے
اس میں اک عمر گزر جائے ضروری تو نہیں

ایک منظر پہ ٹھہر سکتی ہے دھڑکن دل کی
سارے منظر پہ نظر جائے ضروری تو نہیں

حاکمِ شہر تو انصاف کرے گا لیکن
خون قاتل کے ہی سر جائے ضروری تو نہیں

صبح کو آنا ہے تو وہ وقت پہ آجائیگی
ہر جگہ مرغِ سحر جائے ضروری تو نہیں

بات تو آپ کی برحق ہے نذیریؔ لیکن
ان کے بھی دل میں اتر جائے ضروری تو نہیں


مسیح الدین نذیری

کوئی تبصرے نہیں: