محبت کرنے والوں کا جب افسانہ لکھاجائے
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کو دیوانہ لکھا جائے
قلم ہے ہاتھ میں شاعر کے لیکن فکر حیراں ہے
تیرا بیباک ہونا یا کہ شرمانا لکھا جائے
بنایا جائے نقشہ عاشق و معشوق کے دل کا
جنوں کہتے ہیں جس کو اس کو فرزانہ لکھا جائے
لکھا جائے کہ دو دل پیار میں کیسے دھڑکتے ہیں
شمع کی داستاں اور رقصِ پروانہ لکھا جائے
بیاں ہو کس طرح سے آدمی انسان بنتا ہے
کسے کہتے ہیں دل سے دل کا یارانہ لکھا جائے
محبت کے حوالے سے اگر آداب لکھنے ہوں
محبت مانگتی ہے جاں کا نذرانہ لکھا جائے
زباں کہتی ہے چہرہ چاند زلفوں کو گھٹا کہنا
قلم کہتا ہے ان آنکھوں کو میخانہ لکھا جائے
کسی دنیا میں یوں کھوئے ہوئے شام و سحر رہنا
نذیریؔ آپ کو دنیا سے بیگانہ لکھا جائے
مسیح الدین نذیری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں