5 اکتوبر، 2016

محبت کرنے والوں کا جب افسانہ لکھاجائے


محبت کرنے والوں کا جب افسانہ لکھاجائے
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کو دیوانہ لکھا جائے

قلم ہے ہاتھ میں شاعر کے لیکن فکر حیراں ہے
تیرا بیباک ہونا یا کہ شرمانا لکھا جائے

بنایا جائے نقشہ عاشق و معشوق کے دل کا
جنوں کہتے ہیں جس کو اس کو فرزانہ لکھا جائے

لکھا جائے کہ دو دل پیار میں کیسے دھڑکتے ہیں
شمع کی داستاں اور رقصِ پروانہ لکھا جائے

بیاں ہو کس طرح سے آدمی انسان بنتا ہے
کسے کہتے ہیں دل سے دل کا یارانہ لکھا جائے

محبت کے حوالے سے اگر آداب لکھنے ہوں
محبت مانگتی ہے جاں کا نذرانہ لکھا جائے

زباں کہتی ہے چہرہ چاند زلفوں کو گھٹا کہنا
قلم کہتا ہے ان آنکھوں کو میخانہ لکھا جائے

کسی دنیا میں یوں کھوئے ہوئے شام و سحر رہنا
نذیریؔ آپ کو دنیا سے بیگانہ لکھا جائے

مسیح الدین نذیری

کوئی تبصرے نہیں: