اٹھا کر فخر سے ہم اپنا سر تسلیم کرتے ہیں
نبی کو بادشاہ بحر و بر تسلیم کرتے ہیں
بھلا اب اور کیا تمثیل ہو اخلاق اعلی کی
کہ دشمن بھی نبی کو معتبر تسلیم کرتے ہیں
وہ سورج لوٹنا وہ چاند شق ہونا بتاتا ہے
اشارہ آپ کا شمس و قمر تسلیم کرتے ہیں
سنو معراج حق ہے جب محمد کا حوالہ ہے
بھلا بوبکر بھی کب سوچ کر تسلیم کرتے ہیں
پرستاران باطل کے برے دن آنے والے ہیں
محمد کی رسالت اب عمر تسلیم کرتے ہیں
شہادت پاگئے عثماں تلاوت سے رہا رشتہ
اسے ہم عشق قرآں کا اثر تسلیم کرتے ہیں
اچانک زرد ہوجاتے ہیں چہرے سورماؤں کے
فقط نام علی کا یہ اثر تسلیم کرتے ہیں
نبی کے عشق میں ہم جان دینے سے نہیں ڈرتے
نذیری ہم کہاں باطل کا ڈر تسلیم کرتے ہیں
مسیح الدین نذیری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں