وہ میری قبر پہ کتبہ نہیں رہنے دیتا
نام میرا کہیں لکھا نہیں رہنے دیتا
میرا دشمن بھی میری حدِّ انا جانتا ہے
اس لئے اب کوئی جھگڑا نہیں رہنے دیتا
اپنی تہذیب کو مت چھوڑ کہ مغرب کا چلن
گھر کی دہلیز پہ پردہ نہیں رہنے دیتا
پوچھ بوڑھے سے وہ کیوں آکے سڑک پر سویا
اپنے گھر میں اسے بیٹا نہیں رہنے دیتا
چاہتے سب ہیں کہ ہو پیار کا الفت کا چلن
پر کوئی خود کو مسیحا نہیں رہنے دیتا
کیا بتاؤں تمہیں کیا جلوہ دکھاتا ہے غرور
بس یہ شیطاں کو فرشتہ نہیں رہنے دیتا
آج تک بس یہی دیکھا ہے نذیری ہم نے
عشق انساں کو کہیں کا نہیں رہنے دیتا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں