اے بام و در و روزن دیوار خدا حافظ
اے قدرت باری کے شہکار خدا حافظ
جاں دینے کو ہیں تجھ پر تیار خدا حافظ
قربان وطن پر جاں سو بار خدا حافظ
قانون ہے جنگل کا باتیں ہیں بغاوت کی
قابض ہیں حکومت پر مکار خدا حافظ
اے میرے وطن تیرا اللہ نگہباں ہو
حاکم ترے اوپر ہیں غدار خدا حافظ
جن کیلئے اترا تھا دریا کی روانی میں
اب دور سے کہتے ہیں وہ یار خدا حافظ
ذلت میں نہیں جینا مرجانا ہے عزت سے
میں چھوڑ کے جاتا ہوں دربار خدا حافظ
تا عمر نذیری نے مڑ کر نہ اسے دیکھا
کہہ آئے تھے غصے میں اک بار خدا حافظ
اے قدرت باری کے شہکار خدا حافظ
جاں دینے کو ہیں تجھ پر تیار خدا حافظ
قربان وطن پر جاں سو بار خدا حافظ
قانون ہے جنگل کا باتیں ہیں بغاوت کی
قابض ہیں حکومت پر مکار خدا حافظ
اے میرے وطن تیرا اللہ نگہباں ہو
حاکم ترے اوپر ہیں غدار خدا حافظ
جن کیلئے اترا تھا دریا کی روانی میں
اب دور سے کہتے ہیں وہ یار خدا حافظ
ذلت میں نہیں جینا مرجانا ہے عزت سے
میں چھوڑ کے جاتا ہوں دربار خدا حافظ
تا عمر نذیری نے مڑ کر نہ اسے دیکھا
کہہ آئے تھے غصے میں اک بار خدا حافظ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں