***غزل****
زندگی کے ساتھ ہر وعدہ وفا کرتے ہوئے
جاں نکل جاتی ہے اکثر یہ خطا کرتے ہوئے
جانےکیسے لوگ ہیں کھل کر جو کہہ دیتے ہیں بات
مرگئے ہم ایک عرض مدعا کرتے ہوئے
گھر میں بھوکے ہیں مرے بچے مری اجرت تو
رو پڑا مزدور کل یہ التجا کرتے ہوئے
باپ کا سایہ رہے سر پر سلامت اے خدا
اشک آجاتے ہیں آنکھوں میں دعا کرتے ہوئے
چھوڑ کر رنگینیاں دنیا کی آتا کون ہے
ہم نے کم دیکھے ہیں ایسا حوصلہ کرتے ہوئے
اس طرح بکھرے اچانک زندگانی کے ورق
زندگانی کٹ گئی ہے ایک جا کرتے ہوئے
جو نذیری دوسروں کے حق کی دہراتے ہیں بات
کم ملیں گے دوسروں کا حق ادا کرتے ہوئے
***مسیح الدین نذیری***
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں