نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
شہنشاہ دوعالم ماورائے آسماں پہونچے
خدائے پاک سے ملنے مکان سے لامکاں پہونچے
خدانے اپنی قربت کیلئے خود ہی بلایا ہے
فرشتو با ادب عرشِ علی کے میہماں پہونچے
شبِ اسری محمد مصطفے کا نقش پا دیکھو
جہان پر ابن آدم کا نہیں پہونچا گماں پہونچے
کہا صدیق نے بے ساختہ معراج برحق ہے
انھیں اس سے غرض کیا ہے چنیں پہونچے چناں پہونچے.
اے ظلم و جبر کی کالی گھٹاؤ دور ہوجاؤ
نوید صبح ہے انسانیت کے مہرباں پہونچے
جہاں اک دوسرے کے خوں کے پیاسے تھے وہیں آقا
اخوت کی رقم کرنے نرالی داستاں پہونچے
جہاں انسانیت پر ہر طرح شیطان حاوی تھا
چراغِ حق جلانے کو رسول انس و جاں پہونچے
کرم ہے رب کا ورنہ آپ کیا عرض مدینہ کیا
نذیری آپ کی اوقات کیا ہے اور کہاں پہونچے
مسیح الدین نذیری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں