7 جون، 2018

اس شب خاموش میں کس نے پکارا دیکھنا


..............غزل...........


اس شب خاموش میں کس نے پکارا دیکھنا 
کون آ نکلا برے دن میں ہمارا دیکھنا 

اے زمانے یوں نہ ہنس تو آج حالت پر مری
جب وہ آئیں گے مری قسمت کا تارا دیکھنا

دن وہ کیا دن تھے وہ کیسی دلنشیں برسات تھی
روزن و چھت سے محبت کا اشارا دیکھنا

آگ کے شعلے کسی سے دوستی رکھتے نہیں
ایک دن جل جائیگا گھر بھی تمہارا دیکھنا

تم ڈبونے کو ہمیں لے آئے تھے منجدھار میں
جان پر آئی تو کہتے ہو کنارا دیکھنا

فکر کس کو ہے کسی اچھے برے انجام کی
عشق کرنا ہے تو کیا سود اور خسارا دیکھنا

جان کو اپنی ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں ہم
ہم کو باطل کی رعونت کب گوارا دیکھنا 

ہم جلاتے  ہیں شمع تو بھی دکھا اپنا مزاج
اے ہوا ہم کو ہے ترا زور سارا دیکھنا 

 آج کے بچے پلٹ کر آنکھ دکھلانے لگے
ہاں نذیری تھا ہمیں یہ بھی نظارا دیکھنا 

       مسیح الدین نذیری

کوئی تبصرے نہیں: