نہ کوئی خواہش دنیا نہ دلچسپی امیروں میں
بس اپنا نام شامل ہو محبت کے سفیروں میں
وہ اپنے واسطے تب صلح کا پیغام لائے ہیں
نہیں باقی ہے کوئی تیر جب ترکش کے تیروں میں
یہی سچ بات کہہ دینے کی عادت ہے بری ہم میں
وگرنہ ہم بھی ہوتے ظل سبحانی وزیروں میں
کوئی مسند نشیں تو ہیں نہیں کہ دیں پتہ اپنا
ہمیں جب ڈھونڈنا ہوگا تو آجانا فقیروں میں
سیاست میں رمق انسانیت کی کیا کہا تم نے؟
بہت نایاب شئے تم ڈھونڈھتے بے ضمیروں میں
نذیری بس وہی ناکام لوٹ آئے ہیں رستے سے
بھروسہ کر کے جو بیٹھے تھے ہاتھوں کی لکیروں میں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں