نفسی نفسی کا عجب ماحول ہوگا ہر طرف
ایک ہی امید کا ہوگا حوالہ ہر طرف
سرورِ عالمؐ کی آمد کے اثر ظاہر ہوئے
قیصر و کسری ہوں یا کعبہ کلیسا ہر طرف
سورہ کوثر درِ کعبہ پہ لٹکائی گئی
اور پھر چھایا صفِ باطل پہ سکتہ ہر طرف
دیدہ بینا میسر ہے تو آئیگا نظر
صاف ہے قرآں میں آقاؐ کا قصیدہ ہر طرف
پیٹ پر پتھر تھے ایسی تھی قناعت آپؐ کی
ورنہ قدموں میں بچھی تھی ان کے دنیا ہر طرف
سنتِ شاہ اممؐ کو جاں سے اپنی باندھ لو
آج دنیا میں اسی کا ہے تقاضہ ہر طرف
رب نے جب ان کو ورفعنالک ذکرک کہا
کیوں نہ عالم میں چلے آقاؐ کا سکہ ہر طرف
دیکھ لے بوجہل تونے لاکھ کوشش کی مگر
آمنہ کے چاند کا پھیلا اجالا ہر طرف
سرورِ عالم کا کوئی کیا احاطہ کرسکے
ان کی رحمت ہر طرف ہے ان کا جلوہ ہر طرف
فیضِ سرکارِ دوعالمؐ سے بہت روشن ہوا
نام بوبکرؓ و عمرؓ عثماں ؓ علیؓ کا ہر طرف
بزم میں نعتِ نبیؐ پڑھ کر نذیریؔ کیا گئے
خوشبوؤں نے ڈال رکھا ہے بسیرا ہر طرف
مسیح الدین نذیری
پورہ معروف مئو
9321372295
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں