کہاں سے آیا تھا وہ کون تھا خدا جانے
گیا ہے کر کے جو آباد دل کے ویرانے
لگا ہے قیس یہ بازار مال و منصب کا
سنے گا کون یہاں تیرے دل کے افسانے
جناب شیخ کا پوچھو نہ میکدے میں مزاج
نشے میں چور ہیں آئے ہیں ہم کو سمجھانے
ہم اس کے سانچے میں خود کو نہ ڈھال سکتے تھے
اسی پہ ہم سے کنارہ کیا ہے دنیا نے
دلوں کی بات پرکھتے ہیں عقل سے اپنی
عجیب رسم جہاں ہے عجب ہیں دیوانے
یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے اے لوگو
کہ مار ڈالا ہے امروز فکر فردا نے
وہ جس سے ملنا نذیری نہیں پسند مجھے
وہ روز خواب میں آتا ہے مجھ کو اکسانے
مسیح الدین نذیری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں