6 جون، 2018

چاند کو جاکر پسِ تالاب مت دیکھا کرو


چاند کو جاکر پسِ تالاب مت دیکھا کرو
جو تمہیں تکلیف دے وہ خواب مت دیکھا کرو

درد کا احساس بڑھ جائیگا اس سے اور بھی
مشکلوں میں جانبِ احباب مت دیکھا کرو

رنگ و روغن پر نہ جاؤ زندگی کچھ اور ہے
شخصیت دیکھا کرو القاب مت دیکھا کرو

عشق خود استاد ہے تم کو سکھادیگا شعور
تم کتابوں میں لکھے آداب مت دیکھا کرو

اور بھی کچھ رنگ ہیں اس زندگانی کے جناب
صرف اس کا خوبصورت باب مت دیکھا کرو

زندگی بھر یوں ہی رہ جاؤگے خالی ہاتھ تم
دور سے بیٹھے ہوئے مہتاب مت دیکھا کرو

اپنی ہی تصویر آئیگی نظر الٹی تمہیں
اپنی پرچھائیں کو زیرِ آب مت دیکھا کرو

غیر سے وہ بے تکلف ہوکے دیتا ہے عذاب
اس کی جانب اے دلِ بے تاب مت دیکھا کرو

بس نذیری عزم محکم ہو خدا کا نام ہو
حوصلے دیکھا کرو اسباب مت دیکھا کرو

مسیح الدین نذیری

کوئی تبصرے نہیں: