غزل
جواب آں غزل آخر لکھوں کیا
زباں ہے گنگ کچھ ان کو کہوں کیا
نچوڑا جاچکا ہے قطرہ قطرہ
گلا کٹنے پہ اب نکلے گا خوں کیا
نویدِ انقلاب اس کو نہ کہئے
خرد پر حکمراں ہے اب جنوں کیا
انا قیمت ہے اس دربار کی جب
اب اس دربار میں بولو رہوں کیا
صداقت ، حق پرستی، راستی کا
کبھی جھنڈا ہوا ہے سرنگوں کیا
سہے جاتا ہوں سارے ظلم ان کے
میں خود حیران ہوں آخر میں ہوں کیا
یہ جاں تو دے چکا اس کو نذیری
میں اب اس زندگی میں اور دوں کیا
مسیح الدین نذیری
9321372295
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں