۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مینائے غزل 5 ۔۔۔۔۔۔۔
روز ہر شخص چلاجاتا ہے گھر شام کے بعد
کون لیتا ہے لٹے دل کی خبر شام کے بعد
شام آتی ہے تو پھر وقت ٹھہر جاتا ہے
کاش لگ جائے کبھی وقت کو پر شام کے بعد
تیرے کانوں میں محبت کی صدا آئیگی
تومری قبر سے اک روز گذر شام کے بعد
راہ گم گشتہ مسافر کوئی آسکتا ہے
کھول دیتا ہوں اسی واسطے در شام کے بعد
راستے جس کے کٹھن اور سفر صدیوں کا
ایسا ہر روز میں کرتا ہوں سفر شام کے بعد
اس کے چہرے پہ اداسی کی لکیریں دیکھیں
اتفاقاً جو پڑی اس پہ نظر شام کے بعد
زندگی تو مجھے پیاری تو بہت ہے لیکن
ڈھونڈھتاہوں میں سدا تجھ سے مفر شام کے بعد
اپنے پہلو میں نہیں ملتا ہے کھوجاتا ہے
چھوڑ کر دل مجھے جاتا ہے کدھر شام کے بعد
رقص کرتی ہے اداسی میرے چاروں جانب
بیٹھ جاتا ہے مری ذات میں ڈر شام کے بعد
نیند آتی نہیں آنکھوں کو سلامی دینے
بھوک دکھلاتی ہے جب اپنا اثر شام کے بعد
شام موسم لئے آتی ہے اداسی کا ادھر
اور کس طرح کا موسم ہے اُدھر شام کے بعد
چل کہ ہم آج نذیری کریں پیچھا ان کا
شیخ جاتے ہیں بھلا روز کدھر شام کے بعد
مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں