19 اگست، 2019

جو آسمان میں بادل دکھائی دیتا ہے

                   *غزل*

جو آسمان میں بادل دکھائی دیتا ہے
تمہاری آنکھ کا کاجل دکھائی دیتا ہے

ادھر ادھر وہ مسلسل دکھائی دیتا ہے
ہمارے عشق میں پاگل دکھائی دیتا ہے

لبوں میں پہ وہ بھی تبسم سجا کے ملتے ہیں
مرے خلوص کا یہ پھل دکھائی دیتا ہے

تمہارے بعد کسی حسن کی حقیقت کیا
تمہارا حسن مکمل دکھائی دیتا ہے

یہ کس حسین کے سر سے سرک گیا آنچل
”یہاں ہر آدمی بیکل دکھائی دیتا ہے“

جو تونے خار بچھائے ہیں میری راہوں میں
مجھے وہ عشق میں مخمل دکھائی دیتا ہے

نظر سے میں نے کئی بار چھو کے دیکھا ہے
ترا بدن مجھے کومل دکھا دیتا ہے

خدا نے ایسی بصیرت مجھے عطا کی ہے
مری نظر کو چھپا کل دکھائی دیتا ہے

جسے غرور تھا حسن و شباب پر اپنے
وہ آج چہرے سے انکل دکھائی دیتا ہے

*محمد افضل حماؔد معروفی*

کوئی تبصرے نہیں: