17 اگست، 2019

تجھے ہے ٹوٹے دلوں کا بہت خیال غزل

مینائے غزل 16
............غزل..............

تجھے ہے ٹوٹے دلوں کا بہت خیال غزل
ہے تجھ میں وقت کے زخموں کا اندمال غزل

کچھ ایسے بھی ہیں جو باغی ترے وقار کے ہیں.         
ہے رخ پہ تیرے اسی بات کا ملال غزل

گھری ہو لاکھ تو ہر ایک سمت کانٹوں سے
بچا کے لائیں گے ہم تجھ کو بال بال غزل

جو اہلِ دل ہیں جہاں میں غزل کے شیدا ہیں
تمہارے واسطے یہ بھی ہے نیک فال غزل

ترے جو ہوگئے کب تجھ سے کم پہ ٹلتے ہیں
اسی لئے نہیں ہوگا تجھے زوال غزل

ترا بدن ہے صنوبر سحاب زلفیں ہیں
ہیں ریشمی سے بہت  تیرے خد و خال غزل

ترا مزاج رہیگا وہی گلوں والا
تجھے دلائے کوئی لاکھ اشتعال غزل

جو ایک بار ملا تجھ سے پھر کہیں نہ گیا
کچھ ایسا رکھا ہے اندر ترے کمال غزل

کچھ اتنا شیریں ہے لہجہ غزل کا کیا کہئے
جواب میرا محبت اگر سوال غزل

اگر غزل سے محبت کا تجھ کو دعوی ہے
جلاکے خون نذیری جگر کا ڈھال غزل

مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو

کوئی تبصرے نہیں: