17 اگست، 2019

آ گلے سے مجھے لگا اے دوست

مینائے غزل۔18
.............غزل. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آ گلے سے مجھے لگا اے دوست
ہوں بہت آج غم زدہ اے دوست

اس نے اک بار بس چھوا تھا مجھے
میں رہا عمر بھر ہرا اے دوست

آگیا آج لب پہ شکوہ بھی
بے خودی میں یہ کیا ہوا اے دوست

میں ابھی لمس کے خمار میں ہوں
اور تو آکے جاچکا اے دوست

روز کرتا ہے تو نئے وعدے
تو ہے فطرت سے بے وفا اے دوست

پھر وہ تجدیدِ عشق کے الفاظ
کچھ نیا آج کرکے لا اے دوست

میں نئے دوست کی تلاش میں ہوں
دیکھ لے میرا حوصلہ اے دوست

میں ابھی تک ہوں عہد پر قائم
اور تو اس سے پھر گیا اے دوست

پھر نذیری نے کھول دی ہے زباں
پھر کلیجے کو تھامنا اے دوست

مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو

کوئی تبصرے نہیں: