مینائے غزل 11
............ *غزل* ............
نئے طریقے سے اب کے ہمیں سنبھالا گیا
ہمارے کاندھوں پہ کچھ اور بوجھ ڈالا گیا
بہانہ روز نیا کرکے ہم کو ٹالا گیا
ہمیں تھے عشق کا یہ روگ جن سے پالا گیا
ہمارا جرم کوئی جرم تو نہ تھا صاحب
سنانِ نیزہ پہ سر کس لئے اچھالا گیا
نہ کوئی ٹک سکا اس حسن کے مقابل میں
گلاب سنبل و ریحاں کے ساتھ لالہ گیا
امید رکھئے کہ نکلیں گے اور بھی موتی
سمندروں کی تہوں کو اگر کھنگالا گیا
مرے رفیق بھی کچھ کم نہیں ستاتے میں
جو پوچھتے کہ کیوں بزم سے نکالا گیا
بس ایک بات نے الجھن میں ڈال رکھا ہے
ہمارے گھر سے پڑوسی کو کیوں اجالا گیا
جنازہ دیکھا نذیری مرا تو بول اٹھے
کسی کا خوف نہیں اب ستانے والا گیا
مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں