زمیں سے تا بہ فلک سارے زاویئے تیرے
کہ کائنات میں بکھرے ہیں سلسلے تیرے
جسے یقین نہ آئے صمیم دل سے سنے
سنائی دیں گے ہواؤں میں زمزمے تیرے
وہ اك جہاں جو مرے ارد گرد بکھرا ہے
ہر ایک شے میں ہیں پیغام ان کہے تیرے
ہے میرے دل میں خدایا ازل سے یہ حسرت
ہو میری نیند تری میرے رت جگے تیرے
کوئی جو دیکھنا چاہے تو کوئی عذر نہیں
ہر اک جگہ نظر آتے ہیں آئینے تیرے
نہیں ہے کچھ بھی مرا سب ترا ہی مجھ میں ہے
مرا عمل بھی ترا میرے حوصلے تیرے
کوئی کجی ہے نہ ٹھوکر نہ کوئی موڑ کہیں
ہر اک جگہ سے مکمل ہیں راستے تیرے
حیات ایسے نذیری گذارنا چاہے
ردیف اُس کے رہیں اور قافیئے تیرے
مسیح الدین نذیری
9321372295
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں