27 ستمبر، 2016

بے خودی کیا چیز ہے دیوانگی کیا چیز ہے

غزل
بے خودی کیا چیز ہے دیوانگی کیا چیز ہے
ان کی قربت میں یہ جانا زندگی کیا چیز ہے

ہر گھڑی ان کا تصور ہر گھڑی انکا خیال
آج ہم سمجھے سرورِ عاشقی کیا چیز ہے

زندگی زلفوں کے سائے میں ہے کتنی دلفریب
اور وہ نازک سے ہونٹوں کی ہنسی کیا چیز ہے

ہم سے کوئی پوچھے یادیں کتنی کیف انگیز ہیں
اور شبِ فرقت میں پوچھے بے بسی کیا چیز ہے

حالِ دل ان سے کہا تو وہ فسردہ ہوگئے
ان کو بھی معلوم تھا دل کی لگی کیا چیز ہے

پیاس بڑھتی ہی گئی جتنا ہوئے ان کے قریب
عشق کی راہوں کی یہ تشنہ لبی کیا چیز ہے

آج بھی باقی ہے مجھ پہ اے نذیریؔ وہ خمار
سوچتا ہوں ان سے مل کر شاعری کیا چیز ہے

کوئی تبصرے نہیں: