غزل
بے خودی کیا چیز ہے دیوانگی کیا چیز ہے
ان کی قربت میں یہ جانا زندگی کیا چیز ہے
ہر گھڑی ان کا تصور ہر گھڑی انکا خیال
آج ہم سمجھے سرورِ عاشقی کیا چیز ہے
زندگی زلفوں کے سائے میں ہے کتنی دلفریب
اور وہ نازک سے ہونٹوں کی ہنسی کیا چیز ہے
ہم سے کوئی پوچھے یادیں کتنی کیف انگیز ہیں
اور شبِ فرقت میں پوچھے بے بسی کیا چیز ہے
حالِ دل ان سے کہا تو وہ فسردہ ہوگئے
ان کو بھی معلوم تھا دل کی لگی کیا چیز ہے
پیاس بڑھتی ہی گئی جتنا ہوئے ان کے قریب
عشق کی راہوں کی یہ تشنہ لبی کیا چیز ہے
آج بھی باقی ہے مجھ پہ اے نذیریؔ وہ خمار
سوچتا ہوں ان سے مل کر شاعری کیا چیز ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں