میں سارے زہر میں ڈوبے شگوفے یاد رکھتا ہوں
پرانے ہوں تو کیا میں سارے قصے یاد رکھتا ہوں
مجھے اب مت سناؤ خوشنما قصے محبت کے
میں سب کچھ بھولتا ہوں تلخ لمحے یاد رکھتا ہوں
بھٹکتا ہوں میں دن بھر دھوپ میں تھکتا نہیں پھر بھی
کہ گھر میں بھوک سے بے حال بچے یاد رکھتا ہوں
لگاتا ہوں گلے دشمن کبھی جب جھک کے ملتا ہے
کہ میں اپنے بزرگوں کے طریقے یاد رکھتا ہوں
اگر چہ ان کو دہراتا نہیں لیکن حقیقت ہے
میں اپنے دوستوں کے سارے طعنے یاد رکھتا ہوں
مرا دشمن یہیں پہ آکے مجھ سے ہار جاتا ہے
کہ میں انسانیت کے سارے رشتے یاد رکھتا ہوں
بھلانے سے نذیریؔ سارا ماضی چھوٹ جاتا ہے
تو میں اس واسطے ماضی کے رَستے یاد رکھتا ہوں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں