7 نومبر، 2016

میں سارے زہر میں ڈوبے شگوفے یاد رکھتا ہوں


میں سارے زہر میں ڈوبے شگوفے یاد رکھتا ہوں
پرانے ہوں تو کیا میں سارے قصے یاد رکھتا ہوں
مجھے اب مت سناؤ خوشنما قصے محبت کے
میں سب کچھ بھولتا ہوں تلخ لمحے یاد رکھتا ہوں
بھٹکتا ہوں میں دن بھر دھوپ میں تھکتا نہیں پھر بھی
کہ گھر میں بھوک سے بے حال بچے یاد رکھتا ہوں
لگاتا ہوں گلے دشمن کبھی جب جھک کے ملتا ہے
کہ میں اپنے بزرگوں کے طریقے یاد رکھتا ہوں
اگر چہ ان کو دہراتا نہیں لیکن حقیقت ہے
میں اپنے دوستوں کے سارے طعنے  یاد رکھتا ہوں
مرا دشمن یہیں پہ آکے مجھ سے ہار جاتا ہے
کہ میں انسانیت کے سارے رشتے یاد رکھتا ہوں
بھلانے سے نذیریؔ سارا ماضی چھوٹ جاتا ہے
تو میں اس واسطے ماضی کے رَستے یاد رکھتا ہوں

کوئی تبصرے نہیں: