.................غزل ...............
کلی گلاب شفق ماہتاب یعنی تو
غزل کی شوخ مہکتی کتاب یعنی تو
بہار و حسن کا دلکش خطاب یعنی تو
وفا کا ایک دل آویز باب یعنی تو
تڑپ فراق تپش پیاس عشق یعنی میں
نشہ سرور صراحی شراب یعنی تو
وہ حرف حرف ٹپکتی مٹھاس کی بوندیں
وہ لفظ لفظ مہکتا گلاب یعنی تو
اے کاش آئے اچانک کبھی مرے گھر میں
وہ آرزو مری وہ میرا خواب یعنی تو
وہ نرم اطلس و کمخواب کی شبیہ کوئی
لطافتوں کا حسیں انتخاب یعنی تو
تپش تھکاوٹ و الجھن کی ترجمانی میں
سکون ، چین ، محبت، سحاب یعنی تو
میں کر رہا ہوں سوال و جواب کی تفسیر
سوال وصل ہے میرا جواب یعنی تو
کچھ اور کیسے پڑھوں گا کہ جب ملا ہے مجھے
جمال و حسن کا دلکش نصاب یعنی تو
غزال سوسن و ریحاں ' صنوبر و شمشاد
ہر استعارے کا بس اک جواب یعنی تو
اداس اداس نذیری تھے زندگی تھی اداس
پھر آیا ایک حسیں انقلاب یعنی تو
مسیح الدین نذیری
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں