۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے کرسکتا ہے اپنی ذات پر قطرہ گھمنڈ
پائی شہ دریا کی اور اس میں اتر آیا گھمنڈ
حسن پر ان کے یقینا خوب سجتا ہے مگر
عشق کی مانیں تو اتنا بھی نہیں اچھا گھمنڈ
ٹھیک تھا سب کچھ کہیں کوئی پریشانی نہ تھی
پھر زوال آیا کہ خود پہ میں بھی کر بیٹھا گھمنڈ
مت اکڑ اتنا جوانی پر کہ لازم ہے زوال
عمر کروٹ لے گی تیرا ٹوٹ جائیگا گھمنڈ
دیکھ لیجے اس زمیں سے جھک کے ملتا ہے فلک
جو بڑا بڑا ہوتا ہے وہ ہرگز نہیں کرتا گھمنڈ
تان کر گردن چلا کرتے تھے کل تک آپ اور
اک ذرا ٹھوکر لگی اور ٹوٹ کر بکھرا گھمنڈ
فخر کی کیا بات ہے گر تم کو حاصل ہے عروج
*"ہر عروجے را زوالے"* جب ہے پھر کیسا گھمنڈ
شور کرتے ہیں بہت اندر سے جو کنگال ہیں
جو بھرا اندر سے ہوتا ہے نہیں کرتا گھمنڈ
ہاں نذیری شعر گوئی بھی خدا کا فضل ہے
خیریت چاہو تو اس پر بھی نہیں کرنا گھمنڈ
مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں