9 جون، 2020

جب عزازیل ایک دن خود پر ہی کر بیٹھا گھمنڈ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب عزازیل ایک دن خود پر ہی کر بیٹھا گھمنڈ
پڑ گیا بھاری بہت کمبخت پر الٹا گھمنڈ

تم مرے نزدیک مت آنا خدا کا واسطہ
اپنے اوپر میں نہ چاہونگا ترا سایا گھمنڈ

سوچ بیٹھا تھا بچائیگا اسے جودی پہاڑ
کس پہ کر بیٹھا تھا آخر نوح کا بیٹا گھمنڈ

میں خدا ہوں تم مری پوجا کرو کہتا تھا جو
لے گیا اس کا بہا کر نیل کا دریا گھمنڈ

آئینہ دیکھا نہیں ہے تم نے اپنی ذات کا
دیکھ لو اپنی حقیقت اور پھر کرنا گھمنڈ

یہ صفت اللہ پر سجتی ہے بندوں پر نہیں
ہو نہیں سکتا کبھی انسان کو زیبا گھمنڈ

پھر ہوا یوں کہ اچانک سامنے آیا پہاڑ
اونٹ جو کہ اپنی اونچائی پہ کرتا تھا گھمنڈ

خود کو پہچانا تو اپنے آپ پر روشن ہوا
کر نہیں سکتا کبھی انساں کا سر اونچا گھمنڈ

زندگی اور موت دونوں میں نذیری سامنے
بیچ میں ہم پس رہے ہیں پھر بھلا کیسا گھمنڈ

مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو

کوئی تبصرے نہیں: