حق میں سرکار کی مدحت کا ادا کیسے کروں
لفظ ملتے ہی نہیں ان کی ثنا کیسےکروں
زخم پر زخم لگائے کوئی اس حالت میں
میرے آقا نے بتایا ہے دعا کیسے کروں
شہر سرکار دوعالم سے جدائی میں یہاں
زندگی اپنی بسر میرے خدا کیسے کروں
حضرت زید نے ماں باپ سے کیا خوب کہا
خود کو سرکار کی چوکھٹ سے جدا کیسے کروں
بات چل نکلی ہے آقا کے حسیں چہرے کی
ذکر گل کرنے کی ایسے میں خطا کیسے کروں
خوشبوئے جسم پیمبر کا بیاں جاری ہے
اب یہاں تذکرہ عود و حنا کیسے کروں
ذکرِ طیبہ پہ نذیری یہ دھڑک اٹھتا ہے
دلِ مضطر کو میں قابو میں بھلا کیسے کروں
مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں