#نذیریات39
...................غزل..................
ہم ابھی ورطہ امکان میں رکھے ہوئے ہیں
بزم سے نکلے ہیں پر دھیان میں رکھے ہوئے ہیں
شاعری اپنی کہیں اور پڑھی جاتی ہے
ہم کسی اور کے دیوان میں رکھے ہوئے ہیں
ہم سنانے پہ جو آئیں تو سحر ہوجائے
اتنے اشعار قلم دان میں رکھے ہوئے ہیں
کون کھولے گا اسے کوئی نہیں پائیگا
نوٹ کچھ اس لئے قرآن میں رکھے ہوئے ہیں
جنگ لاتی ہے تباہی اسے مت ہونے دیں
آپ کیوں جنگ کے رجحان میں رکھے ہوئے ہیں
کتنے ارمانوں کے لاشے ابھی بے گور و کفن
دل کے صحرا و بیابان میں رکھے ہوئے ہیں
یہ تو ہی اپنا ہی جگر ہے کہ ہر اک غم سہہ کر
خود کو ہم آج بھی اوسان میں رکھے ہوئے ہیں
مدتیں گذریں تو کیا ؟ پھول تری یادوں کے
اے نذیری ابھی گلدان میں رکھے ہوئے ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں