9 جون، 2020

پہلے دکھلاتا ہے لاکر دلنشیں نقشہ گھمنڈ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل 6 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے دکھلاتا ہے لاکر دلنشیں نقشہ گھمنڈ
اور کردیتا ہے پھر انسان کو رسوا گھمنڈ

جس پہ تو غالب ہوا وہ کام کا رہتا نہیں
کار آمد کو بنا دیتا ہے ناکارہ گھمنڈ

میں کہ مخلوقات میں اشرف ہوں تو ارذل صفات
تیرا میرا جوڑ تو کچھ بھی نہیں بنتا گھمنڈ

تونے کتنی بستیاں تاراج کی ہیں یاد ہے؟؟
تونے بخشے کتنے آگ اور خون کے دریا گھمنڈ

گرم جو دنیا میں کشت و خون کا بازار ہے
اس میں بالکل صاف دکھتا ہے ترا چہرہ گھمنڈ

یہ بم و بارود یہ طیارے یہ میزائلیں
حضرتِ انساں کی خاطر ہے ترا ہدیہ گھمنڈ

فضل رب سے جب بھی ملتا ہے کوئی اونچا مقام
آکے دینے لگتا ہے انسان کو دھوکہ گھمنڈ

عاجزی اور انکساری سے ہی ملتا ہے عروج
کہہ گئے ہیں اہلِ دانش تیرا سر نیچا گھمنڈ

پہلے سب آپس میں رہتے تھے سکون و چین سے
اور پھر ایسا ہوا کہ ان میں آ پہونچا گھمنڈ

سوچتا ہوں دیکھ کر آغاز اور انجام کو
کیوں نذیری کر رہا ہے خاک کا پتلا گھمنڈ

مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو

کوئی تبصرے نہیں: