جام و مینا سلسلہ 1
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *غزل* ..............
اسی پہ کھلتا ہے ادراک و آگہی کا سچ
نصیب سے جو سمجھتا ہے بندگی کا سچ
وہی بتائیگا اس آخری سخی کا سچ
کوئی پہاڑ سے پوچھے ذرا ندی کا سچ
پھر اس کے بعد اسے اور کیا سمجھنا ہے
کوئی سمجھ لے اگر اپنی زندگی کا سچ
کسی کی بھوک کا احساس کرلے چہرے سے
نہیں ہے اس سے زیادہ اس آدمی کا سچ
پہی تو سچ ہے کہ لفظوں کو آئینہ کردے
اسی کو لوگ سمجھتے ہیں شاعری کا سچ
کئی تو مر بھی گئے بھات بھات کرتے ہوئے
تمہیں نظر نہیں آیا ہے مفلسی کا سچ
اسی کے ہاتھ میں لاٹھی ہے بھیس اس کی ہے
نہیں چلے گا یہاں دوسرے کسی کا سچ
خلاف فیصلہ آیا یے ایسا ہوتے ہوئے
کہ مانتی ہے عدالت بھی بابری کا سچ
جہاں پہ جھوٹوں کا اکرام اے نذیری ہو
وہاں پہ کام نہیں آئیگا کسی کا سچ
مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں