جام و مینا سلسلہ نمبر 2
...........غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سجالئے ہیں در و بام، آنہ جائے کہیں
کہ ہو نہ ہو وہ خوش اندام آنہ جائے کہیں
ہمارے دل کو پھر آرام آنہ جائے کہیں
ہمارا صبر و سکوں کام آنہ جائے کہیں
اے چاند تجھکو بہت ناز اپنے حسن پہ ہے
ابھی یہاں مرا گلفام آنہ جائے کہیں
میں چینخ چینخ کے کہتا ہوں صرف میرے ہو
کہ میرے عشق میں ابہام آنہ جائے کہیں
میں پھر لکھوں نہ مہکتی ہوئی غزل کوئی
وہ شوخ پھر سے لبِ بام آنہ جائے کہیں
خدا کا شکر ادا کیجئے کہ وقت ٹلا
پلٹ کے گردشِ ایام آنہ جائے کہیں
ہماری بزم میں لازم ہے سب مہذب ہوں
کوئی بھی صاحبِ دشنام آنہ جائے کہیں
وہ مسکرایے تو پھر میں نے پھیر لیں نظریں
کہ حسن پر کوئی الزام آنہ جائے کہیں
غرض نہیں ہے رقیبوں کو کچھ بھی اس کے سوا
تمہارے ساتھ مرا نام آ نہ جائے کہیں
محبتوں میں نذیری بڑے خسارے ہیں
تمہارا دل بھی کبھی کام آنہ جائے کہی
مسیح الدین نذیری پورہ معروف مئو
naziriqasmi.blogspot.com
fb.me/qasmighazals
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں